اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار جو ۹ مارچ ۲۰۲۱ بروز منگل کو قم مدرسہ امام خمینی(رہ) میں منعقد ہوا اس میں حجۃ الاسلام و المسلمین عبد اللہ الدقاق نے کہا: جناب ابوطالب پیغمبر اکرم کی ولادت سے ہی ان کی نبوت کے بارے میں باخبر تھے اور بعثت کے بعد وہ آنحضرت پر ایمان لے آئے۔
انہوں نے مزید کہا: بعض مورخین نے اس دشمنی اور نفرت کی وجہ سے جو امام علی (ع) کی نسبت وہ رکھتے تھے جناب ابوطالب کو کافر اور مشرک کہا جبکہ ابوسفیان اور ہندہ جگر خوارہ کو مسلمان بنا دیا! یہ مورخ امام علی (ع) کے دشمن اور معاویہ و ابوسفیان کے دوست تھے۔
حوزہ علمیہ ائمہ اطہار(ع) کے سربراہ نے کہا: جناب ابوطالب مالی اعتبار سے بے بضاعت ہو چکے تھے لیکن اس کے باوجود وہ قریش کے سردار تھے اور انہیں سید البطحاء کہا جاتا تھا رسول اکرم کے تمام اجداد موحد اور یکتا پرست تھے تاریخی اسناد کے مطابق پیغمبر اکرم کے چند ایک رشتہ داروں کے علاوہ سب مومن اور خدا پرست تھے۔
الدقاق نے رسول اکرم (ص) کی ولادت کو معجزہ گردانتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب اسی وقت ہی پیغمبر اکرم کے نبی ہونے کو جان گئے تھے جب آنحضرت کی ولادت ہوئی، جب جناب ابوطالب رسول خدا کو کمسنی کے عالم میں اپنے ساتھ لے کر شام کی طرف گئے تو عیسائی راہب نے جناب ابوطالب کو خبر دی کہ حضرت محمد خاتم النبیین ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: جب مکہ میں قحط سالی ہوئی تو جناب ابوطالب نے پیغمبر اکرم کو خانہ کعبہ کے پاس لا کر بارگاہ خداوندی میں ان کی قسم دی تو مکہ میں بارش ہوئی، جناب ابوطالب کے قصائد خصوصا قصیدہ لامیہ اور قصیدہ نونیہ ان کے ایمان کی اہم ترین دلیلیں ہیں۔
حجۃ الاسلام الدقاق نے جناب ابوطالب کے ایمان پر گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا: جناب فاطمہ بنت اسد کا ایمان تو مسلم ہے اہل سنت بھی اسے مانتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان عورت کافر کے گھر میں رہ سکتی ہے جب پیغمبر اکرم نے تمام دیگر مسلمان خواتین کو اپنے کافر شوہروں سے جدائی اختیار کرنے کا حکم دیا تو اس وقت جناب فاطمہ بنت اسد کو ابوطالب سے الگ ہونے کا حکم دیا جانا چاہیے تھا لیکن پیغمبر اکرم نے ایسا نہیں کیا یہ بات مسلم دلیل ہے جناب ابوطالب کے ایمان کی۔
انہوں نے آخر میں یہ کہا: انتہا یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ نے اس سال کو عام الحزن کا سال قرار دے دیا جس سال جناب ابوطالب کی رحلت واقع ہوئی یہ ان کے عظیم مقام کی علامت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲